اکتوبر میں حملہ ہو گا جس کے بعد پاک فوج کشمیر آزاد کروا کر بھارت کے کس علاقے تک پہنچ جائے گی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارت کی جانب سے جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اس کے ردعمل میں پاکستان نے بھارت کے لئے فضائی حدود کی بندش کا اعلان کر دیا ہے اس پر

پاکستان کے معروف کالم نگار و تجزیہ نگار مظہر برلاس کا اپنے حالیہ کالم ” سوا سال ” میں اپنے ایک دوست بودی شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میں نے ان سے پوچھا کہ شاہ جی مجھے بتائیں مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے۔جس پر انہوں نے بتایا کہ دنیا کا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے۔ آنے برس اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔حالیہ دنوں میں نریندر مودی کو جو ایوارڈ دئیے گئے وہ بھی اسرائیلوں اور امریکیوں کے کہنے پر دئیے گئے۔تم صحافی بنے پھرتے ہو تمہیں نہیں معلوم کہ اسرائیل بھارت میں ایک ائیر بیس قائم کر رہا ہے۔اس سال کے جو چار ماہ باقی ہیں ان کا قصہ سن لیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مودی کی خوب درگت بنے گی۔22 ستمبر کومودی جب این آر جی سٹیڈیم ہیوسٹن میں خطاب کرے گا تو اسٹیڈیم کے باہر 20 سے 25 ہزار لوگ مودی کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔جن میں پاکستانیوں ،کشمیریوں،بدھسٹ،عیسائیوں اور سکھوں کی کثیر تعداد شریک ہو گی۔اور وہاں پر “کشمیر بنے گا پاکستان” کے علاوہ “آزاد ناگا لینڈ ” اور خالصتان کے نعرے بھی بلند ہوں گے۔مودی امریکہ سے مایوسیوں کے سائے میں لوٹے گا،اکتوبر کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں کشمیر میں پلوامہ کے طرز پر ایک اور

ڈرامہ رچایا جائے گا۔اس ڈرامے کی بنیاد پر بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ کر دے گی اور ساتھ ہی آزاد کشمیر پر حملہ کر دے گی۔یہ حملہ اکتوبر کے آخر یا نومبر کے وسط تک ہو سکتا ہے۔پاک فوج اس حملے کا بھرپور جواب دے گی۔کشمیری بھی اپنا حق ادا کریں گے۔جس کے نتیجے میں بھارتیافواج کو کشمیر چھوڑنا پڑے گا۔بھارت میں متشدد سوچ میں اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے وہاں کی سیاسی قیادت بالخصوص نریندر مودی کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔آج کل بھارتی ہندو مودی کو باپو کہہ کر پکار رہے ہیں۔یہ لوگ گاندھی کو بھی باپو کہتے تھے۔اور پھر مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے بھی آر ایس ایس کے لوگ تھے۔مظہر برلاس مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے بعد اگلے سال یعنی کہ 2020ء میں بھارت پانچ ملکوں میں تقسیم ہو گا۔دوسری جانب چین نے افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا، چین کی جانب سے افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے مکمل حمایت کا اعلان، چینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ قیام امن سے افغانستان بھی گوادر بندر گاہ سے فوائد حاصل کر سکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان،چین اورافغانستان کے سہ ملکی مذاکرات ہوئے۔

Author: admin